سلام بحضور شہدائے کربلا
.
میں یوں تو پڑھتا ہوں ہر روز بار بار سلام
کرم حُسین کا ہو تو کہوں ہزار سلام
.
ہر ایک اشک میں آتا ہوا سلام اُن پر
سلام اُن پہ سلام اور بے شمار سلام
.
برستی آنکھ پہ اصغر کے خشک ہونٹوں پر
میں بھیجتا ہوں لب ِ خشک اشکبار سلام
.
ہزار کو تو جہنم رسید تو نے کیا
سلام شاہ کی تلوار ذُولفقار سلام
.
سلام آپ کے جانے پہ یا حُسین مگر
بہن کہے تو کہے کیسے دل فگار سلام
.
جو لوٹ آیاہے خیموں کی سمت اسپِ حسین
اُٹھی خیام سے یکبارگی پکار، سلام
Related posts
-
دلاور فگار
جو تیتر اور چکور ہیں وہی پکڑیں ان کو جو چور ہیں میں چکور اکور کا... -
سعود عثمانی
دہکتی خاک پہ بادل بچھا دیا کس نے پڑی ہے تپتی ہوئی ریت پر ردائےحسین -
اختر عثمان ۔۔۔ فاقہ ہے بہت دِن سے بہت پیاس ہے عبّاس !
فاقہ ہے بہت دِن سے بہت پیاس ہے عبّاس ! لوٹ آؤ ، سکینہ کو ابھی...
